گوکرن:29/جنوری (ایس او نیوز) ملک اور بیرونی ممالک کے سیاحوں کا سیاحتی مرکز گوکرن میں آوارہ جانوروں کی آوارگی سے سیاحوں اور ان کی سواریوں کے لئے دشواریاں پید ا ہو رہی ہیں۔ عوام نے الزام لگایا ہے کہ جانورجب دودھ دیتے رہتے ہیں تو باقاعدہ ان کی دیکھ ریکھ کی جاتی ہے اور گھر پرہی جانوروں کے باڑ یا کچھار میں انہیں رکھا جاتاہے جب دودھ دینا بند کردیتے ہیں توان کی پرورش کرنے کے بجائے انہیں راستوں پر آوارہ چھوڑدیاجاتاہے جو گلیوں ، محلوں اور سڑکوں کے لئے درد سر بن جاتے ہیں۔

سیاحتی مرکز گوکرن کی سڑکیں ، پگڈنڈی کی مانند ہیں جہاں سے سواریوں کا گزرنا خطرے سے خالینہیں ہوتا ایسے میں راستے پر ان جانوروں کا سکون سے بیٹھے رہنا حادثات کو دعوت دیتے ہیں۔ ساتھ ساتھ سمندر کنارے جہاں تہاں گوبر وغیرہ سے بھی ماحول کو آلودہ کرتے ہیں جس سے سیاحوں کو اطمینان سے کھاناکھانے اور آرام کرنے میں دشواری پیش آتی ہے۔ آمدنی کے پیش نظر گائے کی پرورش کرنے والوں سے گوکرن کے سیاح بیزارگی کااظہار کرتے نہیں تھکتے ۔یہاں وقتاً فوقتاً پیش آنے والے واقعات اس کی گواہی دیتے رہتے ہیں نہ وارث داروں کو اس کی فکر ہے، نہ افسران کو اور نہ ہی ان لوگوں کو جو ملک بھر میں گائے کے نام پر اپنی سیاست چمکاتے رہتے ہیں۔ گذشتہ مہینہ محکمہ آب پاشی کے بنگلے کے قریب ایک گائے نے بچھڑے کو جنم دیا، شام تک وہ گائے اور بچھڑا وہی دھوپ میں تپتے رہے کوئی وارث دار آنکھ اٹھا کر بھی نہیں دیکھا نہ کسی نے اس پر رحم کی نگاہ ڈالی۔ ابھی گذشتہ جمعہ کو بنگلہ پہاڑ کے قریب ایک اور گائے نے بچھڑے کو جنم دیا، دونوں سارا دن وہیں پڑے رہے ، وارث دار اور گائے بھگت وغیرہ سب لاپتہ تھے۔ گائے پر رحم کرنے کے بیانات دینے والے، اس کی نام نہاد حفاظت کے نام پر شہرشہر، گاؤں گاؤں جاکر عوامی بیداری پیداکرنے والے اور گائے کےگن گانے والوں کو گوکرن میں گائیوں پر ہونے والے ظلم کی کوئی پرواہ نہیں ہے۔ان جانوروں سے شکایت ہے تو بس عوا م اور سیاحوں کو ہے، جوان کی راہ کا روڑا بنے ہوئے ہیں۔ رات ہوتے ہی دکانوں ، اسکولوں اور بینکوں کے سامنے والی خالی جگہوں پر سیکڑوں گائے پناہ لیتی ہیں، مالکان ہونے کے باوجود جانور یتیم ہونے پر مجبور ہیں ، گوکرن کے عوا م کو سمجھ میں نہیں آرہاہے کہ اس بد انتظامی اور بدنظمی کو کون ٹھیک کرے گا۔